ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ووٹرشناختی کارڈ کو آدھار سے جوڑنے کا قانون پاس

ووٹرشناختی کارڈ کو آدھار سے جوڑنے کا قانون پاس

Tue, 21 Dec 2021 10:47:37    S.O. News Service

نئی دہلی، 21؍نومبر (ایس او نیوز؍یو این آئی) اپوزیشن کے اراکین کی مخالفت کے درمیان حکومت نے پیر کو لوک سبھا میں الیکشن لا(امینڈمنٹ) بل 2021پیش کیا۔اس میں ووٹر کارڈ اور فہرست کو آدھار کارڈ سے جوڑنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔انصاف اور قانون کے وزیر کرن رجیجو نے الیکشن لا (امینڈمنٹ) بل ایوان میں جیسے ہی پیش کیا کانگریس، ترنمول کانگریس، آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم)، ریولیوشنری سوشلسٹ پارٹی (آر ایس پی)، بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے اس کی مخالفت کی۔ کانگریس نے مطالبہ کیا کہ اس بل کو پارلیمنٹ کی اسٹانڈنگ کمیٹی کے پاس غور و خوض کیلئے بھیجا جائے۔اپوزیشن اراکین کے اندیشوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسٹر رجیجو نے کہاکہ ارکان کی طرف اس کی مخالفت کیلئے جو دلائل دیئے گئے ہیں وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو غلط طریقہ سے پیش کرنے کی کوشش ہے۔ یہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے عوامی نمائندگان قانون میں ترمیم کی تجویز اس لئے دی تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ کوئی شخص رائے دہندہ کے طورپر خود کو ایک سے زیادہ حلقوں میں رجسٹر نہ کراسکے اور بوگس طریقہ سے پولنگ کوروکا جاسکے۔ اراکین کو اس بل پر حکومت کا ساتھ دینا چاہئے۔بل پیش کئے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہاکہ یہ پتو سوامی بمقابلہ ہندوستانی حکومت معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے۔ یہ ڈیٹا محفوظ نہیں ہے اور ماضی میں ڈیٹا کے غلط استعمال کے معاملے بھی سامنے آئے ہیں۔ مسٹر چودھری نے کہاکہ اس بل کو واپس لیا جانا چاہئے اور اسے غور و خوض کیلئے اسٹانڈنگ کمیٹی کو بھیجاجانا چاہئے۔کانگریس کے ہی منیش تیواری نے کہاکہ آدھار قانون میں بھی کہا گیا ہے کہ ووٹر کارڈ کو اس طرح آدھار سے نہیں جوڑا جاسکتا ہے۔ اسے واپس لیاجانا چاہئے۔کانگریس کے لیڈر ششی تھرور نے کہاکہ آدھار کو رہائش گاہ کے ثبوت کے طورپر قبول کیا جاسکتا ہے شہریت کیلئے نہیں۔ووٹر کارڈ کو آدھار سے جوڑنے کا مطلب ہے کہ غیر شہریوں کو ووٹنگ کا حق دینا۔ ایسا نہیں کیا جاسکتا۔ترنمول کانگریس کے سوگت رائے نے کہاکہ اس بل میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ اس لئے ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔اے آئی ایم آئی ایم کے اسدالدین اویسی نے کہاکہ یہ آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق اور پرائیویسی کے حق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ یہ بل خفیہ رائے شماری کے بھی خلاف ہے۔آر ایس پی کے این کے پریم چندرن نے کہاکہ کسی بھی شخص کو زندگی اور پرائیویسی کے حق وغیرہ سے محروم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ پتو سوامی بمقابلہ معاملہ میں سپریم کورٹ نے بنیادی حقوق پر زور دیا تھا۔مسٹر پریم چندرن نے کہاکہ اس معاملے میں ووٹر کارڈ کو آدھار سے جوڑنے سے آئین کے آرٹیکل 21کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ خیال رہے کہ الیکشن لا(امینڈمنٹ) بل کے ذریعہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1950ء اور عوامی نمائندگی ایکٹ 1951میں ترمیم کی گئی ہے۔اس بل کے مقاصد میں کہا گیا ہے کہ ووٹر کارڈ میں دہرہ اور فرضی پولنگ کو روکنے کیلئے ووٹر کارڈ اور فہرست کو آدھار کارڈ سے جوڑا جائے گا۔ بل کے مطابق انتخابات سے متعلق قانون فوجی رائے دہندوں کیلئے صنفی غیرجانبدار بنایا جائے گا۔موجودہ الیکشن لا کے التزامات کے تحت کسی بھی فوجی اہلکار کی بیوی کو فوجی ووٹر کے طورپر رجسٹر کرانے کی اہل ہے اور لیکن خاتون فوجی اہلکار کے شوہر اس کے اہل نہیں ہیں۔

مجوزہ بل کو پارلیمنٹ کی منظوری ملنے کے بعد یہ صورتحال تبدیل ہوجائے گی۔الیکشن کمیشن نے وزارت قانون میں عوامی نمائندگی قانون میں فوجی ووٹرز سے متعلق التزامات میں‘بیوی’لفظ کو بدل کر‘اسپاوس’(شریک حیات) کرنے کو کہا تھا۔ اس کے تحت ایک دیگر التزام میں نوجوانوں کو رائے دہندوں کے طورپر ہر سال چار تاریخوں کے حساب سے رجسٹرکرنے کی اجازت دینے کی بات کہی گئی ہے۔ اس وقت یکم جنوری یا اس سے پہلے 18برس کے ہونے والوں کوہی رائے دہندوں کے طورپر رجسٹر کرانے کی اجازت دی جاتی ہے۔الیکشن کمیشن اہل لوگوں کو ووٹر کے طورپر زیادہ تواریخ تک رجسٹر کرانے کی اجازت دینے کی وکالت کرتا ہے۔ کمیشن نے حکومت سے کہا تھا کہ یکم جنوری کی ایک ہی تاریخ ہونے کی وجہ سے رائے دہندوں کی فہرست میں شامل ہونے سے کئی نوجوان محروم رہ جاتے ہیں۔


Share: